کیا پاکستان نے کرونا سے ہونیوالی اموات کم ظاہر کیں؟

پاکستان میں کرونا وائرس سے کتنی اموات ہوئیں؟، یہ ایسا سوال ہے جس پر عالمی ادارۂ صحت اور حکومت پاکستان اپنے اپنے اعداد و شمار پیش کرتی ہیں اور دونوں اعداد و شمار ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ عالمی ادارہ صحت نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ پاکستان سمیت کچھ ممالک میں کرونا وائرس سے ہویوالی اموات کم ظاہر کی گئیں۔

کرونا وائرس سے ہونیوالی اموات کم ظاہر کرنے کے عالمی ادارہ صحت کے دعوے کو حکومت پاکستان کی جانب سے مسترد کردیا گیا اور کہا گیا ہے کہ پاکستان نے کرونا وائرس کے درست اعداد و شمار ظاہر کئے ہیں۔

اس حوالے سے سماء ڈیجیٹل نے پاکستانی ماہرین صحت سے ان کی رائے لی اور عالمی ادارہ صحت کا مؤقف جاننے کیلئے بھی اسلام آباد میں عالمی ادارہ صحت کی کمیونیکیشن آفیسر سے رابطہ کرکے سوالات بھجوائے تاہم ان کے جوابات تاحال موصول نہیں ہوئے۔

ماہر وبائی امراض اور گلوبل ہیلتھ اسٹریٹیجس اینڈ امپلی مینٹرز کے سی ای او ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ جب کرونا وائرس رپورٹ ہوا تو پاکستان سمیت بہت سے ممالک کے پاس کوئی ایسا سسٹم موجود نہیں تھا جس کے ذریعے ہم بیماریوں سے متاثرہ افراد اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی درست تعداد کا پتہ لگاسکتے اور آج بھی یہ سسٹم موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرح بہت سے ممالک نے کرونا وباء کے دوران جلدی سے ایک رپورٹنگ سسٹم کھڑا کیا جو کسی بھی طورپاکستان میں کرونا کیسز اور اموات کی عکاسی نہیں کرتا تھا، ساتھ ساتھ پاکستان اور دوسرے ممالک میں کرونا وائرس ایک سیاسی مسئلہ بھی بن گیا، اس وجہ سے ضلعی انتظامیہ کے افسران، سیاسی لیڈران یا دوسرے انتظامی افسران نے یہ سمجھا کہ اگر وہ درست اعداد و شمار ظاہر کریں گے تو ان کو اس کا جوابدہ بھی ہونا پڑے گا۔

ڈاکٹر رانا جواد اصغر کا کہنا ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بہت سے دوسرے ممالک نے بھی جانتے بوجھتے نمبروں میں ہیر پھیر کیا کہ بیماری کے اثرات کم ہوں، کم تعداد میں ٹیسٹ بھی اس کی ایک وجہ ہے، کیونکہ جب گھروں پر لوگ بیمار ہوں اور اس کے نتیجے میں گھروں میں ہی اموات ہوں اور ان کے ٹیسٹ بھی نہ ہوں تو آپ کو یہ کیسے پتہ چلے گا کہ یہ اموات کرونا وائرس سے ہوئی ہیں یا کسی اور بیماری سے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اور اس جیسے بہت سے دوسرے عوامل تھے جن کی وجہ سے صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی یہ بتانا کہ کرونا وائرس سے کتنے لوگ متاثر ہوئے اور کتنی اموات ہوئیں بہت مشکل ہے۔ ان  کا کہنا تھا کہ عالمی ادارۂ صحت ان اعداد و شمار کیلئے ایک طریقۂ استعمال کیا جو پہلے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے کہ اگر کسی ملک میں ایک سال میں کتنی اموات ہوئی ہیں یعنی 2020ء میں کتنی اموات ہوئیں اور 2021ء میں اموات کی شرح کیا تھی۔

ماہر وبائی امراض کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں بھی اموات اور پیدائش کا رجسٹر نہیں رکھا جاتا، پاکستان میں بہت سے لوگ اموات اور پیدائش کو رجسٹرڈ نہیں کراتے جب تک اس کی کوئی قانونی ضرورت پیش نہ آجائے، اسکول کے داخلوں کیلئے ضرورت ہوتی ہے پاکستان میں 50 فیصد بچے تو اسکول بھی نہیں جاتے، اگر بچہ 18 سال کا ہوجائے تو شناختی کارڈ کیلئے ضرورت ہوتی ہے تب ہی رجسٹرڈ کراتے ہیں، اسی طرح اموات بھی تب رجسٹرڈ کرائی جاتی ہیں جب ان کی کوئی قانونی ضرورت پیش آئے، اس لیے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ کرونا سے کتنی اموات ہوئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی صورت میں عالمی ادارۂ صحت یہ کرتا ہے کہ ایسے ملتے جلتے ممالک جہاں ایسے مسائل ہوں ان کا ایک میتھامیٹکلی سافٹ ویئر کے ذریعے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ نمبر ہوسکتا ہے، اس بار بھی اسی سافٹ ویئر کے ذریعے حساب لگایا گیا ہوگا کہ پاکستان میں کرونا وائرس سے آٹھ گنا زیادہ اموات ہوئی ہوں گی اور بھارت میں 10 گنا زیادہ اموات ہوئی ہوں گی۔

ڈاکٹر جواد نے بتایا کہ میرا ذاتی خیال ہے ہمارے پاس بنیادی نمبرز ہی موجود نہیں ہیں تو یہ سب اندازے ہیں لیکن پاکستان حکومت کا یہ اصرار کرنا بھی درست نہیں ہے کہ صرف 30 ہزار اموات ہوئی ہوں گی کیونکہ ہمارا سسٹم مکمل نہیں تھا، اس میں بہت سی خامیاں تھیں اور اسے مینوپلیٹ بھی کیا گیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وباء کے دوران اموات کو چھپانا مشکل ہوتا ہے، اس لئے عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار بھی درست نہیں ہیں، میرا ذاتی خیال ہے ہمیں اس بارے میں کبھی بھی علم نہیں ہوسکے گا کہ کرونا وائرس سے کتنی اموات ہوئی ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں یہ 8 گنا زیادہ نہیں ہوگا لیکن تین یا چار گنا ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر جواد نے کہا کہ اس بحث میں الجھے بغیر ہمیں پیدائش اور اموات کے سسٹم کو بہتر کرنا ہوگا، بیماریوں کے سرویلنس سسٹم بنائیں تاکہ ہمیں پتہ چل سکے کون سی بیماری کا کتنا دباؤ ہے، ان نمبرز کا معلوم ہونا ہمارے ہیلتھ سسٹم اور شہریوں کی بہتر صحت کیلئے بھی ضروری ہے۔

آغا خان اسپتال کے انفیکشیئس ڈیزیز ایکسپرٹ ڈاکٹر فیصل محمود نے بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ شائع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان سمیت بعض ممالک پوری طرح اپنی اموات رپورٹ نہیں کرپاتے، ہم ہر مہینے یا سال میں یہ نہیں بتا پاتے کہ کتنی اموات ہوئی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی وجہ کیا تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ درست نمبرز جاننے کیلئے عالمی ادارۂ صحت نے کیا یہ کہ کرونا سے پہلے کتنی اموات ہوتی تھی اور کرونا کے بعد اندازاً کتنی اموات ہوئی ہیں، اس میں ایسا نہیں ہے کہ حکومت کی طرف سے اموات چھپائی گئی ہوں، مگر یہ ضرور ہے کہ ہمارے پاس ایسا کوئی سسٹم نہیں ہے جس کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکیں کہ کووڈ سے کتنی اموات ہوئی ہیں ناصرف کرونا وائرس بلکہ کرونا کی پیچیدگیوں کی وجہ سے بھی۔

ڈاکٹر فیصل محمود نے مزید کہا کہ یہ بھی ممکن ہے یہ جو اموات تھیں اس سے کم ہوں اور یہ بھی ممکن ہے اس سے بھی زیادہ ہوں، یہ سب کیلکولیشن کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، یہ درست بات ہے صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں کرونا وائرس سے جو اموات رپورٹ ہوئیں، اصل اموات اس سے کہیں زیادہ ہیں، کتنے گنا زیادہ ہیں، اس پر بحث ہوسکتی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں جو اموات رپورٹ ہوئیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد کے وائس چانسلر پروفیسر شہزاد علی خان نے کہا کہ کیسز کو انڈر رپورٹ کرنا آسان ہے لیکن اموات کو چھپانا مشکل کام ہے، جب انسان مرنے والا ہوتا ہے تو اس کے گھر والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی ڈاکٹر یا اسپتال پہنچ جائے، ایسا ظالم کم ہی ہوتا ہے جو اپنے کسی قریبی عزیزکو اس لئے اسپتال نہ لے جائے کہ اس کی موت کو کرونا میں شامل کرلیا جائے گا، اگر وہ کسی اسپتال نہ بھی گیا ہو تو اموات کسی نہ کسی اسپتال یا سرکاری دفتر میں ضرور ریکارڈ ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارا قبرستانوں کا نظام بھی بہت مضبوط ہے، صرف دنیا ہی نہیں ہمیں خود بھی حیرانگی تھی کہ دنیا کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں ڈیٹا بہت کم ہے، اس وجہ سے ہم نے از خود قبرستانوں سے ڈیٹا اکھٹا کرنا شروع کیا، اس کیلئے ہم یونین کونسلز اور قبرستانوں سے ڈیٹا اکھٹا کرتے تھے کہ روزانہ کتنے لوگ دفنائے ہیں، جب ڈیٹا جمع ہوا تو ہمارے اعداد و شمار اور قبرستانوں سے جمع ڈیٹا میں زیادہ فرق نہیں ہے۔

ڈاکٹر شہزاد علی خان نے بتایا کہ یہ پاکستان کو ڈس کریڈٹ کرنے والی بات ہے کہ ڈیٹا کم ظاہر کیا گیا، ایسا نہیں ہے، این سی او سی میں ہر سطح کے لوگ شامل تھے۔



from SAMAA https://ift.tt/2Q0zRpS

No comments:

Post a Comment

Main Post

Watch: Backlash against Musk's Grok AI explained

Technology editor Zoe Kleinman explains the row over changes made by X to it's Grok AI image edits, after the UK government called it ...