
کراچی میں جھوٹی شخصی ضمانت پر اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان کی رہائی کا انکشاف ہوا ہے۔ کراچی پولیس چیف کہتے ہیں کہ جھوٹی ضمانت دینے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔
ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (اے آئی جی پی) کراچی رینج غلام نبی میمن نے سماء ڈیجیٹل کو دیئے گئے مختصر ٹیلی فونک انٹرویو میں بتایا کہ کراچی پولیس اسٹریٹ کرائمز سے نمٹنے کیلئے تحقیق پر مبنی حکمت عملی بنارہی ہے۔
کراچی پولیس چیف کے مطابق دوران تحقیق انکشاف ہوا ہے کہ ماضی میں اسڑیٹ کرائمز میں ملوث ملزمان کو جھوٹی شخصی ضمانت پر رہا کیا گیا۔
اس سے قبل ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی پی) ایڈمنسٹریشن احمد نواز چیمہ نے سماء ڈیجیٹل کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اسٹریٹ کرائمز میں ملوث 80 فیصد ملزمان پہلے بھی کئی دفعہ گرفتار ہوکر جیل جاچکے ہیں۔
شہر قائد میں اسٹریٹ کرائمز کا مسئلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رواں سال کے ابتدائی 2 ماہ میں سماء ٹی وی سے وابستہ سینئر پروڈیوسر اطہر متین سمیت 18 افراد کو دوران ڈکیتی مزاحمت کرنے پر ملزمان کی جانب سے قتل کیا جاچکا ہے، ایسے واقعات میں 70 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
کراچی پولیس چیف نے کہا کہ کراچی پولیس اس زاویے پر کام کررہی ہے کہ اسٹریٹ کرائمز میں ملوث ملزمان بآسانی ضمانت پر کیسے اور کیوں رہا ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے مقدمات میں ناقص تفتیش تو اپنی جگہ ہے لیکن کئی اور حقائق بھی سامنے آئے ہیں جن میں جھوٹی شخصی ضمانت پر رہائی بھی شامل ہے۔
غلام نبی میمن نے بتایا کہ کراچی پولیس نے جھوٹی شخصی ضمانت دینے والے افراد کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کے مطابق اسٹرئٹ کرائمز میں ملوث افراد کی رہائی کیلئے جھوٹی شخصی ضمانت دینے والے افراد کیخلاف مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 216 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 216 ڈکیتی اور رہزنی میں ملوث ملزمان کو پناہ دینے والے افراد سے متعلق ہے۔ اگر کوئی شخص ڈکیتی یا رہزنی میں ملوث ملزم کو پناہ دیتا ہے تو اسے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 216 اے کے مطابق ڈکیتی یا رہزنی میں ملوث افراد کو پناہ دینے پر 7 سال قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔
کراچی پولیس چیف کا مزید کہنا تھا کہ شخصی ضمانت پر رہا ہونے والے افراد کے کیسز کا جائزہ لے رہے ہیں اور جھوٹی شخصی ضمانت دینے افراد کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
from SAMAA https://ift.tt/1Zqgzcu
No comments:
Post a Comment