سندھ اسمبلی ملک کی تمام اسمبليوں پر سبقت لے گئی، طلبا یونین کی بحالی کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا گيا، سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ ہوگا جہاں 38 سال بعد جامعات اور کالجز میں طلبہ یونینز کے الیکشن ہوں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تاریخی قانون سازی پر اپوزیشن کو بھی مبارکباد دی۔
سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران جمعہ کو مکیش چاؤلہ نے ’سندھ اسٹوڈنٹس یونین بل 2019‘ پیش کیا، جسے حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے تصدیق کی ہے کہ اسمبلی اجلاس کے دوران طلبہ یونین کی بحالی کا بل پیش کیا گیا، جسے ارکان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ میں 38 سال بعد طلبہ یونین کی بحالی کے بل کی منظوری پر اپوزیشن کو بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں جمہوری روایات لانا اہم قدم ہے۔
بل کے چیدہ چیدہ نکات
سندھ اسمبلی نے 38 سال 1984ء کے بعد پہلا صوبہ ہوگا جہاں طلبہ يونين کے انتخابات کرائے جائيں گے۔ بل کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں۔
تعلیمی ادارے 2ماہ میں طلبہ یونین کے قواعد و ضوابط طے کریں گے۔
طلبہ انتخابات کے ذریعے 7 سے 11 نمائندوں پر مشتمل یونین منتخب کریں گے۔
تعلیمی اداروں میں ہر سال طلبہ یونین کے انتخابات ہوں گے۔
تعلیمی ادارے کی سینیٹ، سینڈیکيٹ میں طلبہ یونین کی نمائندگی ہوگی۔
اسلامی جمعیت طلبہ کا ردعمل
اسلامی جمعیت طلبہ نے سندھ اسمبلی سے طلبہ یونینز کی بحالی کی قانون سازی کا خیرمقدم کیا ہے۔ جاری بيان ميں کہا گيا ہے کہ سندھ اسمبلی نے طلبہ یونینز بحال کرکے تاریخی قدم اٹھایا، دیگر صوبے بھی سندھ کی تقلید کریں۔
from SAMAA https://ift.tt/12ASkms
No comments:
Post a Comment