
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 30اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملکی مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں 11کروڑ 48لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 11کروڑ 48لاکھ ڈالر کی کمی کے بعد مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 16ارب 66کروڑ 80لاکھ ڈالرسے کم ہوکر 16ارب 55کروڑ32 لاکھ ڈالررہ گئی ہے۔
اعداد وشمار کے مطابق مرکزی بینک کے ذخائر5کروڑ 90لاکھ ڈالر کی کمی سے 10ارب ڈالر 49کروڑ 90لاکھ ڈالر رہ گئے ہیں جب کہ دیگر کمرشل بینکوں کے ذخائر بھی 5کروڑ 58لاکھ ڈالر کی کمی سے6ارب 5کروڑ42 ڈالر ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائرگزشتہ کئی ہفتوں سے گراوٹ کا شکار ہے جس کے تحت صرف اپریل میں ملکی مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں 92کروڑ37لاکھ ڈالر کی کمی آچکی ہے جس میں مرکزی بینک کے ذخائر میں واقع ہونے والی کمی 82کروڑ ڈالر ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی تجارتی وکرنٹ اکاونٹ خسارہ بڑھنے کی وجہ سے آرہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر کم از کم تین ماہ کے درآمدات کے لئے کافی ہونے چاہیے تاہم اس وقت جو ذخائر کی مالیت ہے وہ دو ماہ کے درآمدات کو بھی کور نہیں کرتے۔
from SAMAA https://ift.tt/RpJya0T
No comments:
Post a Comment